ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ہندومذہب نہیں ثقافت ہے،تنوع اوروحدت میں کثرت ہندوتواکامرکزی نظریہ:بھاگوت

ہندومذہب نہیں ثقافت ہے،تنوع اوروحدت میں کثرت ہندوتواکامرکزی نظریہ:بھاگوت

Wed, 03 Aug 2016 21:28:50    S.O. News Service

لندن 3اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ ہندو روایت ایسی تبدیلی مذہب کی اجازت نہیں دیتا جس میں کسی شخص کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوتو کوئی مذہب نہیں ہے، بلکہ ایک روایت ہے جس میں تمام طرح کی شناخت کو قبول کرنے اور احترام کرنے کی بات کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ کسی فلسفہ یا مذہب پرغورکرنے کے بعد اگر کسی کی خود کی خواہش یا تمنا اسے تبدیل کرنے کی ہوتو ہماری روایت کہتی ہے کہ ہر شخص آزادانہ طورپرفیصلہ کر سکتا ہے کہ اس کامذہب کیاہوناچاہئے۔لیکن لوگوں کو فتنہ دینا یا کسی دوسرے طریقے کا سہارا لینا شخص کے حقوق میں مداخلت ہوگی ۔بھاگوت نے یہ بھی کہاکہ ہندو ثقافت ہے، نہ کہ مذہب۔انہوں نے کہاکہ ہندو ایک روایت ہے جوتمام دیگر لوگوں کو قبول کرنے، ان کا احترام کرنے اور ان کی تعریف کرنے میں یقین رکھتاہے۔انہوں نے کہاکہ ہم ایک مربوط معاشرے کی طرح اور انسانی اور عالمی طور پر رہ سکتے ہیں۔ہندو مذہب کہتا ہے کہ تنوع کو سراہا جائے گا۔بھاگوت نے قدیم زمانے میں بھی تنوع کے موجود ہونے اور ’’تنوع میں اتحاد‘‘ہندوتوکامرکزی منتر ہونے کاحوالہ دیا۔انہوں نے کہاکہ اس کی تاریخ کے باوجود، ہم نے کسی کے ساتھ غیر ملکی جیسابرتاؤ نہیں کرتے ۔کبھی کبھی صرف سیاست ان تمام میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔لیکن یہ پانی کے بلبلے کی طرح رہے ہیں اورپھر ہم معمول کی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے خون میں ہے۔


Share: